تعارف فتح الجوّاد فی معارف آیات الجہاد

Print option in slimbox / lytebox? (info)
PDF

تعارف فتح الجوّاد فی  معارف آیات الجہاد

(www.fathuljawwad.com)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

قرآن کریم اللہ رب العزت کی آخری اور محکم کتاب اور تمام انسانوں کے لئے منشور ھدایت اور دستور ہے۔تخلیق انسان کے عجائبات سے لے کر انسان کے انجام اخروی تک جتنے بھی حالات پیش آنے والے ہیں سب کی تفصیل قرآن کریم میں موجود ہے اور انسانی نفع کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس پر قرآن کریم نے روشنی نہ ڈالی ہو۔

مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰی رَبِّھِمْ یُحْشَرُوْنَ o (الانعام)

 

پھر قرآن چونکہ حکمت والی کتاب ہے اور اسے ’’کتاب حکیم‘‘ کا نام دیا گیا ہے اس لئے اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ہر موضوع کو اس کی اہمیت اور ضرورت کے مطابق بیان کرے۔ جس بات کا اجمال اور جس امر کے بیان میں تقلیل انسانوں کے لئے کافی یا ضروری ہو وہاں تقلیل و اجمال کا پہلو اختیار کرے اور جہاں حاجت تکثیر کی ہو اس بات کو خوب اچھی طرح کھول دے، اور قرآن کریم شروع سے آخر تک اسی اسلوب کو اپنائے ہوئے ہے۔

 

قرآن کریم انسان کو بتاتا ہے کہ اسے ’’بندگی‘‘ کے لیے پید کیا گیا۔

وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون (الذاریات)

اور اسے وہ اعمال بتاتا ہے جن کی بجا آوری پر اسے ’’عبد‘‘ تسلیم کر لیا جائے گا اور اس کا مالک و آقا اس سے راضی ہوگا، اسے انعام و اکرام سے نوازے گا اور اپنی شان کریمی کے مطابق اس سے پیش آئے گا۔ اور اگر انسان ان اعمال سے روگردانی کرے گا، اعراض کا طریقہ اپنائے گا تو اسے ’’عبدیت‘‘ سے بھاگا ہوا قرار دے کر اس کے تئیں سخت سزا و عقاب کا معاملہ کرے گا۔ ان اعمال کو ’’فرائض‘‘ کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم انسان کو ایسے پانچ فرائض بتاتا ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور جہاد فی سبیل اللہ۔ ان فرائض کی ادائیگی ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ کوئی شخص مؤمن صادق نہیں ہو سکتا جب تک ان فرائض کو مان نہ لے اور اسے رضائے الٰہی نصیب نہیں ہو سکتی جب تک ان فرئض پر عمل نہ کر لے۔ قرآن ان تمام فرائض کو بیان کرتا ہے، ان کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالتا ہے، ان کے فضائل بھی بتاتا ہے،، ان کی ضروری تفاصیل پر بھی روشنی ڈالتا ہے اور ان کے ترک پر وعید بھی سناتا ہے تاکہ لوگ انہیں مانیں اور ان پر عمل کریں۔

نبی کریم ﷺ جنہیں اللہ رب العزت نے کتاب اللہ کا حامل بنایا اور آپ ﷺ اس کتاب عزیز وحکیم کے معلم اول بھی ہیں، مفسر اول بھی ہیں اور مبلغ اول بھی۔ آپ ﷺ نے اپنی امت تک اللہ رب العزت کے اس پیغام کو پہنچایا اور اپنے قول وعمل سے سمجھایا بھی۔ اس کے احکام کی تشریح فرمائی، مجمل و متشابہ کی جس قدر حاجت ہوئی تفسیر فرمائی اور فرائض کی جزئیات سے آگاہ فرمایا۔ نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پھر اس امانت کا بار اپنے کندھوں پر اٹھایا اور دوسری اقوام کے لئے اس کتاب کی تعلیم، تبلیغ اور تفسیر کا کام سر انجام دیا وَھَلُمَّ جَرًّا  اسی طرح یہ سلسلہ بہ سلسلہ ہم تک پہنچا۔

نبی کریم ﷺ کی سند عالی سے ہم تک جو علوم پہنچے ہیں ان میں ایک اہم ترین اور مبارک ترین علم، تفسیر کا علم ہے۔ کتاب اللہ کی تفسیر کا علم، کتاب اللہ کی مراد کی وضاحت، احکام کی تفصیل، لطائف ومعارف کا استخراج ، بدائع و نکات و اشارات اور مسائل کا استنباط، یہ وہ علم مبارک ہے جسے امت نے نبی کریم ﷺ سے حاصل کیا اور اس کی اہمیت و عظمت کے پیش نظر ہر زمانہ میں اہل علم نے اس کی طرف اعتناء کیا۔ قرآن کریم کی لاکھوں تفاسیر لکھی گئیں اور علماء کرام نے زمانے کی ضرورت اور اپنے مختلف اذواق کی بناء پر قرآن کریم کے ہر موضوع اور اس میں مکنون ومستور ہر علم و فن کو خوب اجاگر کیا۔ قرآن کریم کے علوم واشارات چونکہ لامحدود ہیں اور انسانوں کی افتاد طبع بھی مختلف، اس لئے ہر تفسیر میں ایک الگ رنگ غالب وممتاز نظر آتا ہے، کہیں معانی و بلاغت، کہیں سیرت رسول تو کہیں زہد ورقاق، کہیں فقہ تو کہیں علوم عقلیہ، کہیں احقاق حق تو کہیں ابطال باطل، غرضیکہ ہر شان و ہر رنگ کی تفاسیر منظر عام پر ہیں۔ اور پھر بعض علماء  نے یہ اسلوب بھی اپنایا کہ پورے قرآن کریم کی تفسیر لکھنے کی بجائے کسی ایک خاص موضوع کو بلکہ بسا اوقات کسی ایک خاص آیت کو بھی اس کی اہمیت و ضرورت کی بناء پر منتخب کر کے اس کی تفسیر لکھی۔ یہ سلسلہ زمانۂ قدیم سے ہی اسلاف کا معمول رہا ہے اور اس کی سینکڑوں مثالیں اسلامی کتب خانے میںبکھری ہوئی ہیں۔ آیات احکام کی مستقل تفاسیر، آیات الزہد والرقاق کی مستقل تفاسیر، آیۃ الکرسی کی مستقل تفاسیر اور اسی طرح دیگر موضوعات۔

زیر نظر کتاب ’’فتح الجواد فی معارف آیات الجہاد‘‘ جس پر یہ چند سطور لکھنے کی سعادت بندہ کو حاصل ہوئی وہ بھی اسی سلسلۃ الذہب کی کڑی ہے،جو تصنیف ہے امیرالمجاہدین الداعیۃحضرت الشیخ مولانا محمد مسعودازہر حفظہ اللہ کی۔قرآن کریم کے جس موضوع کو اس کتاب کے لیے منتخب کیا گیااس کا کیا مقام ہے؟اور اللہ تعالیٰ نے اس کار عظیم کے لیے جس بطل جلیل، رجل سعید کو منتخب فرمایا اسکی کیا شان ہے؟ سطور ذیل میں ہم ان دو باتوں کا مختصر اجمالی خاکہ پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔

جہاں تک موضوع کا تعلق ہے تو جیساکہ کتاب کے نام سے ظاہر ہے کہ یہ موضوع ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ اور اس کے متعلق نازل ہونے والی آیات کی تفسیر ہے۔ اور ’’جہاد‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے کفار سے قتال کرنا اور اس میں جان و مال کی قربانی پیش کرنا قرآن پاک کی نظر میں کتنا اہم موضوع ہے؟ ذیل میں اس کچھ خلاصہ پیش خدمت ہے

قرآن مجید میں جو احکام و فرائض ذکر کئے گئے ہیں ان میں سب سے کثرت کے ساتھ اور سب سے مفصّل بیان کیا جانے والا حکم ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ ہے۔ جہاں تک کثرت کا تعلق ہے تو یہ بات قرآن مجید کا مطالعہ کرنے والے کسی شخص پر مخفی نہیں ہوسکتی کہ جس قدر آیات ’’جہاد‘‘ کے بارے میں نازل ہوئیں اتنی اور کسی حکم کے بارے میں نہیں آئیں۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج ان سب کے بارے میں نازل شدہ آیات کو دیکھا جائے اور جہاد کے بارے میں منزّل آیات کی تعداد گنی جائے تو بات بہت وضاحت کے ساتھ سمجھ میں آجائے گی۔ زیر تفسیر میں قرآن مجید کی انہی آیاتِ جہاد کو جمع کیا گیا ہے اور ان کی تفسیر لکھی گئی ہے۔ یہ وہ آیات ہیں جن کی نص میں ہی حکم جہاد وارد ہوا ہے یا ربط جلی سے ان کا تعلق حکم جہاد سے ثابت ہوا ہے۔ ان آیات کی تعداد ۵۸۴ ہے اور ان کے ساتھ اگران آیات کو بھی جوڑ لیا جائے جن میں حکم جہاد کے نزول سے پہلے اشاراتِ جہاد آئے یا جن کا تعلق بطریق ربط خفی اور ربط اخفی حکم جہاد سے جڑتا ہے تو یہ تعداد ایک ہزار سے متجاوز ہوجاتی ہے۔ اتنی آیات دیگر احکام میں سے کسی کے بارے میں بھی وارد نہیں ہوئیں۔

اور جہاں تک تفصیل کا تعلق ہے تو ’’جہاد‘‘ کو دیگر احکام میں یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس کی جتنی جزوی تفا صیل اور ذیلی احکام قرآن مجید میں بیان ہوئے اتنے کسی اور حکم اور فریضے کے نہیں ہوئے۔ مثلاً آپ نماز کو لے لیجئے، بلاشبہ اسلام کے احکام میں وہ ایک خاص ترین مقام کا حامل فریضہ ہے، جس کی سخت تاکید وارد ہے اور ترک پر شدید ترین وعیدات ہیں، ائمہ اسلام کی اکثریت کے نزدیک تارک صلوٰۃ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، بایں ہمہ تمام قرآن مجید میں پانچ فرض نمازوں کی رکعات کی تعداد ، نماز کے داخلی  فرائض، نماز کے مفسدات وغیرہ بنیادی تفاصیل بھی مذکور نہیں بلکہ یہ تمام باتیں حدیث رسول ﷺ سے معلوم ہوتی ہیں۔ اسی طرح زکوٰۃ کہ اس کی فرضیت کا ذکر قرآن میں جابجا ہے۔ مگر اس کی مقادیر اور دیگر اہم مسائل قرآن مجید میں وارد نہیں ہوئے بلکہ احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتے ہیں، اسی طرح معاملہ ہے حج کا اور صوم کا بھی۔ مگر جب ہم قرآن مجید میں حکم جہاد کو پڑھتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ میدان جہاد میں مؤمن کو اجتماعی اور انفرادی طور پر پیش آنے والے اکثر حالات اور احکام جزئیہ قرآن مجید نے تفصیل کے ساتھ بیان کردئیے۔

مثلاً فرضیت جہاد کی شرائط، یعنی جہاد کن لوگوں پر فرض ہے کن پر نہیں؟

لیس علی الاعمیٰ حرج، الآیہ (الفتح)

جہاد کا حکم شرعی کیا ہے؟

کتب علیکم القتال (البقرہ)

فرض عین ہے یا کفایہ؟

وما کان ا لمؤمنون لینفروا کافۃ ، الآیہ( التوبہ)

کن مقاصد اور اہداف کے لئے مشروع ہے؟

کنتم خیر امۃ اخرجت للناس ( البقرہ)

کہ تمہیں دین کی دعوت کفار تک پہنچانے اور عام کرنے کے لئے جہاد کرنا ہوگا(اس آیت کی ابن عباسؓ و ابوہریرہ ؓ سے منقول تفسیر ملاحظہ کی جائے)

وما لکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ والمستضعفین (الآیہ) (النسآء)

یعنی مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لئے قتال کرنا ہوگا

وقاتلوہم حتیٰ لا تکون فتنہ، الآیہ( الانفال)

کفر کی قوت کو ختم کرنے کے لئے لڑنا ہوگا

کفار کو کتنی شدت سے مارنا ہوگا؟

فشردبہم من خلفہم (الانفال)

قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟

فأِمَّا منا بعد واما فداء ً (محمد)

مال غنیمت کس طرح تقسیم ہوگا؟

واعلموا انما غنمتم من شئی۔الآیۃ (الانفال)

مال فئے کا کیا حکم ہوگا؟

ما افا ء اللہ علی رسولہ من اھل القریٰ فللہ، الآیۃ(الحشر)

حتی کہ میدان جہاد میں دشمن کے ہاتھوں قتل ہونے والے مؤمن اور طبعی موت مر جانے والے کا حکم، حملہ کرنے سے پہلے تحقیق کا حکم ،دوران جنگ مسلمان ہو جانے والے کافر کا حکم الی غیرذلک ، اتنے باریک جزئی احکام ہیں جن کا احصاء اس مضمون میں مشکل کام ہے۔ بطور لطیفہ ایک بات عرض کرتا چلوں جیساکہ سابقہ سطور میں عرض کیا کہ نماز جیسے اہم حکم کی ادائیگی کا تفصیلی طریقہ قرآن مجید میں مذکور نہیں۔ مگر ایک موقع پر دو رکعت نماز کی ادائیگی کا طریقہ مفصلاً وارد ہوا ہے اور یہ وہ نماز ہے جو مجاہدین میدان جنگ میں دشمن کے رو برو صف آراء ہونے کی حالت میں ادا کرتے ہیں اور اصطلاح شرع میں اسے ’’ صلاۃالخوف‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس دو رکعت کی کتنی باریک جزوی تفاصیل بیان کی گئیں ؟ سورۃالنساء کے مطالعہ سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے ۔ خلاصہ یہ کہ قرآن مجید نے جہاد کو دیگر احکام میں یہ امتیاز بخشاکہ اس کا ذکر بھی کثرت سے کیا اور اس کی جزئیات سے بھی زیادہ بحث کی اور یہ اس وجہ سے تھا کہ جہاد کی اہمیت اسی بات کی متقاضی تھی۔ قرآن مجید بتاتا ہے کہ جہاد کو ایمان کا امتحان مقرر کیا گیا۔

ام حسبتم ان تترکواولما یعلم اللہ الذین جاہدو ا منکم (التوبہ)

ام حسبتم ان تدخلوالجنۃولما یعلم اللہ الذین جاہدو ا منکم (آل عمران)

ولنبلونکم حتیٰ نعلم المجاہدین منکم والصابرین و نبلو اخبارکم (محمد)

جہاد محبت الٰہیہ کی علامت ہے۔

یحبہم ویحبونہ اذلۃ علی المومنین اعزۃ علی الکافرین یجاہدون فی سبیل اللہ (المائدہ)

ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا (الصف)

جہاد دل میں ایمان کے راسخ ہونے کی علامت ہے۔

اولئک کتب فی قلوبہم الایمان (المجادلہ)

جن لوگوں نے جہاد سے پہلو تہی کی تھی انہیں منافق قرار دے دیا گیا اور اہل ایمان کی صفوں سے نکال دیا گیا، اس موضوع پر آیات کی تعداد سو سے بھی زائد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے ایمان کو سچا اور انہیں دعوائے ایمان میں صادق قرار دیا جنہوں نے جہاد کو اپنے ایمان و عمل کا حصہ بنایا۔

انما المومنون الذین آمنو باللہ و رسولہ ثم لم یرتابواوجاہدو باموالہم و انفسہم فی سبیل اللہ اولٰئک ہم الصادقون (الحجرات)

اور جن لوگوں نے جہاد سے رخصت مانگی، بہانے کئے اور اعراض کا طرز عمل اپنایا انہیں صرف زبان کا مسلمان قرار دے کر ان کے ایمان کی نفی کر دی گئی۔

انما یستأذنک الذین لا یومنون باللہ، الآیۃ(التوبہ)

جہاد کو جنت کا مختصر ترین راستہ اور قرب الٰہی کے حصول کا قریب ترین ذریعہ قرار دیا گیا۔

یا ایھا الذین آمنو اتقو اللہ وابتغوا الیہ الوسیلۃ و جاھدوا فی سبیلہ (المائدہ)

جہاد کرنے والوں کی جان و مال کا سودا اللہ تعالیٰ نے جنت کے بدلے کر لیا۔

ان اللہ اشتری من المومنین انفسہم و اموالہم بان لہم الجنۃیقاتلون فی سبیل اللہ (التوبہ)

یا ایھا الذین آمنوھل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم، الآیۃ (الصف)

جہاد کو اسلامی اعمال میں افضل ترین عمل قرار دیا گیااور یہ مضمون دو جگہ بہت صراحت کے ساتھ وارد ہوا۔سورۃ التوبہ کی آیت

اجعلتم سقایۃالحاج الآیۃ

اور سورۃالنساء کی آیت

لا یستوی القاعدون من المومنین الآیۃ

جہاد کو محبت نبیﷺ کی علامت بھی بتایاگیا۔

ما کان لاھل المدینۃومن حولہم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ  الآیۃ(التوبہ)

ان کے علاوہ اور بہت سی خصوصیات جن کا اندازہ آپ کو اس کتاب کے مطالعہ سے بخوبی ہو جائے گا۔

جب یہ موضوع قرآن مجید کی رو سے اس قدر اہم،ضروری اور حساس تھا تو اس کا تقاضہ یہی تھا کہ اسے بہت کھول کر بیان کیا جاتا اور ہر زمانے میں ایساہوتا رہا۔مفسرین کرام نے بھی اپنی کتب میں بہت بسط سے اس موضوع پر کلام کیا لیکن کوئی مستقل تفسیر اس موضوع پر ایسی نہ تھی جو خصوصیت کے صرف اس کو بیان کرنے والی ہو اور زمانہ حاضر میں ایسی تصنیف کی طرف احتیاج ہر زمانے سے زیادہ تھا جسکی چند وجوہات درج ذیل ہیں۔

(۱) احادیث مبارکہ کی رو سے یہ زمانہ قرب قیامت کا ہے اور اس زمانے کے جو احوال ہمیں احادیث میں ملتے ہیں وہ اکثر ’’ جہاد‘‘ پر مشتمل ہیں۔ بڑی بڑی جنگیں ، ملاحم،ظہور مہدی، نزول عیسیٰ ؑ ،دجال کا خروج اور اس کے خلاف قتال وغیرہ۔ ان حوالہ جات سے یہ زمانہ احیائے جہاد کا زمانہ ہے اور صحیح احادیث میں اس زمانے کی جہادی لشکروں کا حضرت مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام کے لشکروں میں شامل ہونا وارد ہے۔ اس لئے اس زمانے میں دعوت جہاد کے ایسے اسلوب کی حاجت شدیدتر تھی جو قرآن کے براہین سے مدلل ہو اور سننے والوں کو میدان جہاد کی طرف کھنیچ لائے اور مسلمانوں میں جہاد کا عمومی ماحول پیدا کرے۔

(۲) دنیا بھر میں چلنے والی اسلام دشمن سیکولر تحریک کا جزواعظم ’’ انکار جہاد‘‘ ہے کیونکہ جب تک کوئی مومن اللہ تعالیٰ کے حضور جان ومال کی قربانی دینے پر آمادہ ہواسے نہ دنیا پرست بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے دین سے دور کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے ہر طرح سے جہاد پر حملہ کیا گیا اور ایک فکری جنگ چھیڑ کر لوگوں کو جہاد کے اصل مفہوم یعنی قتال اور قربانی سے ہٹایا گیا۔ اب اکثر لوگ یا تو جہاد کے سرے سے منکر ہو گئے یا پھر اس کے ایسے معانی اور مفاہیم کو اصل مان بیٹھے جو قرآن کے منشا کے سراسر خلاف تھے ۔ یہ حملہ اس قدر منظم،ہمہ جہت اور مدلل تھاکہ اسکا مقابلہ محض جذباتی تقریروں سے ممکن نہ رہا تھا۔ایسے میں ضرورت تھی ایک ایسی مدلل مبرہن کتاب کی جسکی بنیا د کتاب اللہ ہو،کیونکہ باطل کے لیے کتاب اللہ کے دلائل کا معارضہ اور مقابلہ کرنا ممکن نہیں اسکے علاوہ جو بات بھی کی جائے گی اسکے ردکیے جانے کا احتمال رہتا ہے۔

۳۔ہمارے بلاد یعنی برصغیر میں انگریز نے اپنے استعماری قبضے کے ایام میں ایک جھوٹے دجال شخص کو دعوائے نبوت کے ساتھ کھڑا کیا جسکا نام غلام احمد قادیانی تھا،اس ملعون مفتری نے اپنے اس دعویٰ کا بنیادی مقصد ہی مسلمانوں کو جہاد سے دور کرنا اور امر جہاد کو ان پر ملتبس کرنا بتایا جیسا کہ اس کی اپنی تصانیف سے ظاہر ہے۔اس زمانے میں حضرات علماء دیوبند نے اسکا مقابلہ کیااور مسلمانوں کو اس فتنے سے بچانے کی سعی کی۔اس ملعون نے جہا د کے بارے میں جو تلبیسات و اعتراض عام کیے وہ لوگوں میں پھیل گئے حتیٰ کے دیندار مسلمان بھی جہا د کے حوالے سے عموماً انہی اعتراضات و شبہات کا شکار ہوئے جنکا بانی یہ کذاب، مفتری تھا۔اور یہ معاملہ یہاں تک بڑھا کہ دین کے دیگر احکام کو ماننے اور ان پر عمل کرنے والے حضرات بھی جہاد کے بارے میں وہی زبان بولنے لگے اور عامۃ المسلمین میں گمراہی پھیل گئی۔

ایسے میں اللہ رب العزت نے اپنے ایک مجاہد فی سبیل اللہ بندے کو منتخب فرمایا اور توفیق بخشی کہ وہ گمراہی کے اس اندھیرے میں قرآن کا چراغ ہاتھ میں لے کر نکلا اور اس نے امت مسلمہ کے لیے اس موضوع پر اولین تفسیر مرتب کر دی۔قرآن کس عمل کو جہاد کہتا ہے؟اور اسے کس شدت کے ساتھ بیان کرتا ہے؟نبی کریمﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ نے کس طرح جہاد کیا ؟اسلامی خلافت کا احیاء،اسلام کا غلبہ ،مسلمانوں کی آزادی اور دنیا میں باعزت مقام کا حصول ،اسلامی نظام کا اجراء یہ سب اعلیٰ مقاصد کس عمل کے ذریعے حاصل ہوں گے؟اور جہاد کے خلاف پھیلائے جانے والے وساوس،تلبیسات اور شبہات کا قرآن خود کیا جواب دیتا ہے؟یہ تمام باتیں امت مسلمہ کے لیے کھول کر رکھ دی گئیں ہیں۔الحمدللہ یہ کتاب منظر عام پر آئی اور اسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیااور اسکے ایسے اثرات ہمارے ماحول اور معاشرے پر رونما ہوئے جنہوں نے قرون اولیٰ کی یادیں تازہ کر دیں۔دعوت جہاد عام ہوئی ،لوگوں کے شبہات دور ہوئے ،میدان جہاد آباد ہوئے،شوق شہادت سے سرشار فدائیوں کے دستے نکلے،ماں باپ خود اپنے بچے قربان کرنے کے لیے لانے لگے۔انفاق فی سبیل اللہ کا مبارک عمل زندہ ہوا۔غرضیکہ ہمارے بلاد میں شمع جہاد اپنی پوری آب و تاب سے روشنی بکھیرنے لگی۔پھر اس کتاب کو عام کرنے کا داعیہ پیدا ہوا۔اور کئی زبانوں میں اسکا ترجمہ شروع ہوا۔انگریزی،پشتو اور پھر عربی۔اس امید کے ساتھ کہ اسکی روشنی پورے عالم میں پھیلے اور قرآن مجید سے حکم جہاد کی یہ مؤثر دعوت ہر طرف سے لوگوں کو جہاد کی طرف متوجہ کرے۔

میں موضوع کے اگلے حصے کی طرف جانے سے پہلے ایک اہم بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔وہ یہ کہ مصنف کتاب خود ایک متبحر اور راسخ فی العلوم عالم دین ہیں اور ایک عملی مجاہد بھی ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دل پر حکم جہاد کو خوب کھول دیاہے۔ان کے دروس و خطب میں جہاد کے حوالے سے ایسے نکات بھی سننے میں آتے ہیںجو عموماً کتب میں نہیں ملتے لیکن انہوں نے اپنی اس تصنیف میں اپنی تحقیق اور نکات کو معیار نہیں بنایابلکہ قرآن مجیدکی آیاتِ جہاد کی وہ تفسیر نقل کی ہے جو ان اسلاف امت نے لکھی جن کا نام ہی استناد کے لیے کافی ہے۔آپ کتاب کے مطالعہ میں ہر بات کو باحوالہ پائیں گے،اور حوالہ بھی کن کا؟الجامع لاحکام القرآن للقرطبی ؒ،تفسیر ابن کثیر،روح المعانی،تفسیر ابی السعود،البحر المحیط،مفاتیح الغیب للرازیؒ،المدارک للنسفیؒوغیرہ معتبر کتب تفسیر جنہیں ہر زمانہ میں تلقی با لقبول حاصل رہی اور امت نے ان پر اعتماد کیا۔اسی طرح علماء ہند میں سے شاہ عبد القادر دہلوی ؒ،مولانا اشرف علی تھانویؒ،علامہ شبیر احمد عثمانیؒ،وغیرہ اساطین علم کی تحقیق کو نقل کیا گیا ہے۔اور یہ بات اس کتاب کے مسلک سلف پر ہونے اور معتبر ہونے کی کافی دلیل ہے۔البتہ کہیں کہیں مصنف حفظہ اللہ نے’’ نکتہ‘‘کے عنوان سے جو مختصر باتیں ذکر کی ہیں قارئین کو ان کے مطالعہ سے مصنف کے علمی تبحر اور مقام کا خود اندازہ ہو جائے گا۔

اور اب کتاب کی کچھ دیگر خصوصیات

۱۔آیات جہاد کی مختصر فہرستیں جو انتہائی محنت اور مطالعہ کے بعد مرتب کی گئیںہیں۔مثلاًمدنی آیات جہاد کی مکمل فہرست،مکی اشاراتِ جہاد کی فہرست،امام المفسرین حضرت مولٰنا احمد علی لاہوری کی تحقیق کے مطابق آیات جہاد کی فہرست وغیرہ۔ کتاب کی ابتداء میں تمام آیات جہاد کی فہرست اور پھر ہر سورۃ کی ابتداء میں اس میں وارد شدہ آیات کی فہرست۔

۲۔ہر سورۃ کے شروع میں ایک مربوط خلاصہ جس میں ہر آیت کے مضمون کو مختصر الفاط میں باحوالہ آیت درج کر دیا گیا ہے۔اس طرح قاری کے ذہن میں پہلے ہی ان تمام مضامین کا خلاصہ آجاتا ہے جن کا وہ اس سورہ میں مطالعہ کرے گا۔یہ انتہائی مفید کام بہت محنت اور عرق ریزی کا متقاضی تھا۔مصنف اسے کر گزرے،قارئین کو اسکی قدر و قیمت کا اندازہ کتاب کے مطالعہ سے لگ سکتا ہے خصوصاً اہل علم اگر سورۃ انفال ،سورۃ محمد اورسورۃ الفتح کے خلاصے کو بنظر غائر دیکھیں گے تو انتہائی قابل قدر علمی کارنامہ پائیں گے۔سورۃ الانفال میں درج ۱۵ قوانین و اصول جنگ،مجاہد کی ۲۵ صفات،۲۰ فوائد جہاد اور ۱۳ دفعات حرب کا استخراج و احصاء مع حوالہ آیات ایسے جواہر ہیںجو قاری کو اس کتاب کے علاوہ کہیں نہ ملیں گے اور اس سے مصنف کے تبحر علمی ،وسعت مطالعہ اور کتاب کی ترتیب میں انکی محنت شاقہ کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔

۳۔ہر آیت کے معارف کے مستقل عنوانات جن سے قاری کے لیے مضامین کا ضبط آسان ہو جاتا ہے۔

۴۔قرآن مجید میں وارد نبی کریم ﷺ کا اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی جنگی مہمات کا مفصل احوال۔ہر غزوے سے متعلق آیت کے ساتھ مستند کتب سیر ت و تاریخ سے اس غزوے کا واقعہ تفصیل سے ذکر کر دیا گیا ہے تاکہ قارئین کو مقصود قرآنی اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے اور ساتھ ساتھ نبی کریم ﷺ کے جہادی احوال سے بھی باخبر ہو سکیں۔

۵۔ہر آیت کے مضمون کے ذکر کے بعد اس کے مماثل ان دیگر آیات کا ذکر جن میں یہ مضمون بیان ہوا ہے۔تاکہ علماء و دعاۃ کے لیے کسی ایک موضوع کی تمام آیات کا استقصاء آسان ہو۔

۶۔قرآن کے جہادی واقعات کی عصر حاضر کی جہادی تحریکات پر تطبیق اور قرآنی اصولوں کی روشنی میں عصر حاضر کے شرعی جہاد کا جائزہ۔تاکہ اہل باطل کے وساوس کا رد ہو اور اہل ایمان ان جاری تحریکات جہاد کے شرعی مقام سے باخبر ہو سکیں۔

(۷) جہاد کے بارے میں پھیلائے گئے شبہات و تلبیسات کا مدلل و مبرہن جواب، جو دعاۃ اسلام کو فکری اسلحہ فراہم کرتا ہے۔

(۸) قرآن کے مضامین جہاد کی فہرست جن کے مطابق ہر آیت کی تطبیق آسان ہوتی ہے کہ اس کا تعلق جہاد سے متعلق کس موضوع کے ساتھ ہے۔

(۹) خاص موضوعات کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے ان سے متعلق صحیح احادیث کے مجموعات۔ مثلاً فضائل سلاح سے متعلق احادیث صحیحہ کامجموعہ، اسی طرح انفاق فی سبیل اللہ، بیعت علی الجہاد اور لزوم جماعت کی اہمیت اور تاکید وغیرہ کئی موضوعات پر احادیث مبارکہ کے مجموعات، تاکہ قاری کے ذہن میں ان امور کی عظمت اور ضرورت راسخ ہو جائے اور فضائل کے علم سے عمل کا شوق ابھرا۔

(۱۰) جگہ جگہ دردمندانہ انداز میں دعوت جہاد، تاکہ قرآن مجید کا پیغام قاری کے ذہن میں اچھی طرح جم جائے اور اس میں عمل کا داعیہ پیدا ہو۔

یہ دس متفرق خصوصیات ارتجالاً ذکر کردیں ہیں ورنہ درحقیقت کتاب از اول تا آخر ایسی خصوصیات سے پر ہے جن کا اندازہ قاری کو کتاب کے مطالعے سے ہوجائے گا۔

میں اس دعا کے ساتھ اپنے ان کلمات کو ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ شیخ کے علم،عمل،عمراور کام میںبرکت عطا فرمائے۔ان کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور ان کا سایہ امت مسلمہ خصوصاً مجاہدین کے سروں پر تا دیر قائم رکھے اور ہمیں ان سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین

 

از مولانا طلحہ السیف

الامام المجاہد فی سبیل اللہ، الداعیۃ الکبریٰ، امیرالمجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہر صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے بلاد میں بلکہ پورے عالَم میں دعوت جہاد کو عام کرنے اور میدان جہاد میں مشرکین و اہل صلیب کو رسوا کرنے کے لئے منتخب فرمایا اور اس میدان میں سبقت عطا فرمائی ہے۔

شیخ کی ولادت پاکستان کے صحرائی شہر ’’بہاولپور‘‘ کے ایک غریب مگر دینی اعتبار سے ممتاز گھرانے میں ہوئی۔ آپ کے والد گرامی جناب اللہ بخش صابر نوراللہ مرقدہ ایک مقامی سکول میں ادب کے استاذ تھے۔ آپ کے دادا جناب اللہ دتہ عطا نوراللہ مرقدہ اپنے علاقے میں دینی امور میں مرجع کی حیثیت رکھتے تھے اور نانا حضرت محمد حسن چغتائی نوراللہ مرقدہ دینی تحریکات کے ایک پر جوش سپاہی تھے جنہوں نے اپنی زندگی خدمت اسلام کے لئے وقف کر رکھی تھی اور کئی بار ان تحریکات کی پاداش میں قیدو بند کی صعوبتوں سے دوچار ہوئے، خصوصاً ’’احرار اسلام‘‘ کے پلیٹ فارم سے تحریک تحفظ ختم نبوت میں قائدانہ اور فداکارانہ کردار ادا کیا۔ اس طرح شیخ کی پیدائش ایسے گھرانے میں ہوئی جن کا تعارف ہی خدمت دین تھا اور آپ ایک متصلب دینی مزاج لے کر دنیا میں آئے۔ بچپن میں شیخ کو سکول میں داخل کرا دیا گیا، جہاں آپ نے ساتویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور خدا داد فطری ذہانت کی بناء پر ہر جماعت کو امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس کیا۔ اس کم عمری میں ہی اپنے والد گرامی اورنانا جان کی تربیت کے زیر اثر تقریر کی مشق کی اور سکول کے تقریری مقابلوں میں ہمیشہ امتیازی درجات حاصل کرتے رہے۔ آپ کے والد گرامی نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ اپنے سب سے لائق فرزند کو دینی تعلیم کے لئے وقف کریں گے، اس لئے ساتویں جماعت سے فراغت کے ساتھ ہی انہوں نے لوگوں کے روکنے کے باوجود اپنے عہد کا ایفاء کیا اور شیخ کو ایک عزیز کے ہمراہ گھر سے بہت دور مرکز علوم دینیہ کراچی روانہ کر دیا۔ انتہائی کم عمری میں گھر سے اس قدر دور ایسے شہر میں بھیجا جانا جہاں کوئی آشنا نہیں تھا شیخ کے لئے ایک سخت امتحان تھا مگر اللہ رب العزت نے خدمت دین کا جو میدان ان کے لئے مقدر کر رکھا تھا اس کی تیاری کے لئے ایسے امتحان اور شدائدناگزیرہیں۔ کراچی میں حضرت العلامۃ محمد یوسف بنوری نور اللہ مرقدہ کا قائم فرمودہ جامعہ العلوم اسلامیہ جو اس زمانے میں دینی علوم کے ساتھ تحریکاتِ اسلامیہ کا بھی مرکز تھا آپ کی مادر علمی مقرر ہوا۔ شیخ نے ابتدائی درجات میں اپنی فطری صلاحتیوں اور نیک طبیعت کی وجہ سے طلبہ میں مقام امتیاز پالیا اور اساتذہ کرام کے منظور نظر ٹھہرے اور ان کی خصوصی توجہات کے مورد ہو ئے ۔وسطانی درجات کی ابتدا میں ہی آپ کو اپنے محبوب استاذ حضرت مولانا عبدالسمیع شہید کے واسطے سے مفتی اعظم پاکستان اور جامعہ کے شیخ الحدیث حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہ سے بیعت اور ارادت کا تعلق نصیب ہوا اور آپ حضرت مفتی صاحب کی خصوصی تربیت میں آگئے ۔ اپنے شیخ کے حکم پر اس زمانے میں کراچی کے ایک معروف علاقے میں ایک مسجد میں امامت اور خطبۂ جمعہ و درس قرآن کا بھی آغاز کیا۔ اللہ رب العزت نے خطابت کا ملکہ بچپن سے عطاء فرمایا تھا اوپر سے شیخ کی صحبت کا حسین رنگ نمایاں تھا اس لئے زمانہ طالب علمی میں ہی اس علاقے کے لوگوں کے مرجع دینی بن گئے اور آپ کا درس قرآن مقبول عام ہوا اور خواتین و حضرات کی بڑی تعداد اس میں شریک ہونے لگی اور لوگوں کی زندگیوںپردینی انقلاب کا اثر نمایاں ہونے لگا۔ آج بھی بیس سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود اس علاقے کے لوگوں پر اس تربیت کے اثرات نمایاں ہیں۔ شیخ نے اپنے ان بزرگ اساتذہ کرام کے زیر سایہ جامعہ میں اپنی تعلیم مکمل کی اور اکابر جامعہ کے حکم پر جامعہ میں بطور استاذ آپ کا تقرر ہوا۔ عربی زبان میں اپنی محنت اور لگن سے خصوصی مہارت پائی تھی اس لئے زیادہ تر اسباق جامعہ کے ’’ معہد‘‘ میں دیے گئے جہاں غیر ملکی طلبہ کو عربی میں اسباق پڑھائے جاتے تھے۔

جہادی زندگی کا آغاز

اسی سال آپ نے جامعہ کے مہتمم حضرت مفتی احمد الرحمن صاحب نور اللہ مرقدہ کے حکم پر افغانستان کا سفر کیا تاکہ جہاد کی تربیت حاصل کریں۔یہ افغان جہاد کے عروج کا زمانہ تھا اور دنیا بھر سے مجاہدین جماعت در جماعت آکر اس عظیم جہاد میں شرکت کی سعادت حاصل کر رہے تھے۔شیخ کے دل میں اپنے خاندانی پس منظر،نانا جان کی تربیت اور جہادی جذ بے سے سر شار اہل حق اساتذہ کرام کی صحبت کے زیر اثر شمع جہاد تو روشن تھی اور جذبہ پیدا ہو چکا تھا سر زمین ِجہاد کی زیارت نے اس جذبے کو مہمیزدی اور آپ نے اس سفر کے دوران مجاہدین کے حالات کا بغور مشاہدہ کرنے اور اللہ رب العزت کی نصرت کے واقعات دیکھنے کے بعد اپنی زندگی جہاد کے لئے وقف کرنے کا عزم کر لیا۔ جہادی تربیت اور محاذپر عملی شرکت کے بعد آپ واپس کراچی آئے تو آپ نے تدریس کے ساتھ دعوت جہاد کے کام کا آغاز کر دیا۔ خطابت میں ایک زبردست مئوثر اسلوب کے حامل تھے اور ساتھ ہی علمی رسوخ نصیب تھا، دعوت قرآن و حدیث کے دلائل سے مبرھن ہوتی تھی اس لئے تھوڑے ہی عرصے میں ملک کے کونے کونے میں آپ کا نام گونجنے لگا اور ہر طرف دعوتِ جہاد کے اسفار شروع ہوگئے۔ واضح رہے کہ اس وقت شیخ کی عمر محض ۱۲ سال تھی۔ اس کم عمری میں اللہ رب العزت نے وہ شہرت نصیب فرمائی جس کا احاطہ اس تحریر میں نہیں کیا جاسکتا۔ اس زمانے میں ہندوؤں کی طرف سے بابری مسجد گرائے جانے کادلخراش واقعہ پیش آیا۔ شیخ کے قلبِ حساس پر اس واقعے نے شدیداثر ڈالا اور اللہ رب العزت کے گھر کی اس بے حرمتی اور ہندوؤں کی طرف سے مزید ہزاروں مساجد گرانے کے عزم نے آپ کو بے چین کر دیا اور آپ نے کراچی میں ایک بڑے مجمع میں خطبہ دیا جس نے ملک بھر میں جذبہ جہاد کی آگ لگا دی۔ ہزاروں نوجوانوں نے دیوانہ وار میدان جہاد کا رخ کیا اور دعوتِ جہاد کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ اس خطبہ کی۰۱ لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت و تقسیم ہوئیں اور ہندوستان کے ایوانوں تک اس خطاب کی گونج سنی گئی۔شیخ نے تدریس کا مشغلہ ترک کر دیا اور ہمہ تن دعوت جہاد میں مشغول ہو گئے۔

زبان کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے قلمی صلاحیت سے بھی بھرپور نوازہ تھا، اس لئے تقریر کے ساتھ تحریر کے میدان میں بھی آپنے خدمتِ جہاد کا آغاز کیا۔ مجاہدین کا ترجمان ماہانہ مجلہ’’ صدائے مجاہد‘‘ کے نام سے نکالا جس کی ادارت اور تمام تر تحریری خدمت آپ خود سر انجام دیتے، اور اس کے علاوہ عربی زبان میں مجلہ ’’صوت الکشمیر‘‘ کا بھی اجراء کیا۔ اور دیگر جہادی موضوعات پر کئی مختصر رسائل کے ساتھ بخاری شریف کی کتاب الجہاد کو بنیاد بنا کر ایک قدرے ضخیم کتاب ’’فضائل جہاد‘‘ تصنیف فرمائی۔

بیرونی اسفار

پاکستان کے کونے کونے تک دیوانہ وار دعوتِ جہاد پہنچانے کے بعد آپ نے ملک سے باہر دعوتی اسفار کا سلسلہ شروع کیا۔ اس سلسلے میں برطانیہ کے دو طویل دورے فرمائے، افریقہ کے بعض ممالک زیمبیا وغیرہ جا کر وہاں کے مسلمانوں کو فریضۂ جہاد کی طرف متوجہ کیا اور عرب امارات کا سفر کئی بار پیش آیا، عرب امارات کے دورے کے دوران آپ نے عربی زبان میں بھی خطابات کئے جن میں ’’الجہاد والمؤمرات العالمیہ‘‘ نامی خطبہ بہت مقبول ہوا۔ غرضیکہ شیخ نے دعوت جہاد کو اپنی زندگی کا اوڑھنا، بچھونا بنا لیا اور اہل عجم میں اس سلسلے میں وہی خدمات سر انجام دیں جو اہل عرب میں شیخ عبداللہ عزام شہید(رح) نے کیں۔

سفر ہندوستان واسارت

افغانستان میں مجاہدین کی فتوحات کا دائرہ وسیع ہونے کے ساتھ ہی پاکستانی مجاہدین نے کشمیر میں جاری جہاد کی طرف رخ کیا اور وہاں کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لئے اس میدان کو آباد کیا۔ جہادِ کشمیر کی اس ترقی اور قوت کے ظاہری اسباب میں شیخ کی طرف سے چلائی جانے والی طوفانی دعوت جہاد اور خصوصاً بابری مسجد کے حوالے سے کئے جانے والے آپ کے بیانات کا بڑا حصہ تھا۔ جہاد کشمیر میں پاکستانی مجاہدین کی قیادت شیخ کے قریبی دوست سجاد افغانی شہید(رح) کے ہاتھ میں تھی جن کا تعلق پاکستانی کشمیر سے تھا۔ انہوں نے شیخ کو دعوت دی کہ آپ کشمیر تشریف لائیں اور کچھ وقت مجاہدین کے ساتھ گزاریں، اس سے ان کے حوصلے جوان ہونگے اور عزائم کو تقویت ملے گی۔ ان کی پر زور دعوت پر آپ نے ہندوستان کی طرف رخت سفر باندھا اور خطرات سے پُر اس سفر کا عزمِ مصمم کر لیا۔ ایک یورپی ملک کا پاسپورٹ حاصل کرکے آپ نے اپنے دشمن ملک ہندوستان کی سر زمین پر قدم رکھا۔ جان کو شدید خطرے میں ڈال کر بابری مسجد کے مقام پر گئے، کئی مقامات پر مسلمانوں کو دعوت جہاد دی اور پھر کشمیر کی مقبوضہ وادی کا سفر کیا۔ وہاں مجاہدین سے ملے، ان کی ترتیبات کو منظم کیا، تباہ کن کاروائیاں مرتب کیں اور دو ہفتے سے زائد عرصہ ان امور کی انجام دہی میں گزارکر جب واپس ہندوستان کی طرف روانہ ہوئے تو اپنے دوست کمانڈر سجاد افغانی شہید کے ساتھ گرفتار کر لئے گئے۔ ہندوستان کی حکومت نے اس واقعے پر بہت خوشی منائی اور ہندوستانی پارلیمان میں بابری مسجد والا خطبہ سنا کر ارکان حکومت کو بتایا گیا کہ ہم نے کس قدر خطرناک دشمن کو گرفتار کیا ہے۔

جیل میں خدماتِ جہاد

شیخ کو تقریباً ایک سال تک مختلف عقوبت خانوں میں تعذیب کا نشانہ بنانے کے بعد جیل منتقل کردیا گیا۔ شیخ نے پہلے سے گرفتار مجاہدین کو منظم کیا، اور علمی و اصلاحی تربیت کا نظام بنایا۔ درس قرآن و حدیث کا حلقہ قائم کیا، حفظ قرآن کا سلسلہ شروع کیا اور مجاہدین کو متحد کرکے ایک ایسی قوت بنا دیا کہ ہندوستانی حکام اس جیل کے قریب آنے سے بھی خوف کھاتے، اس کے ساتھ شیخ نے تصنیفی کام کی طرف توجہ فرمائی اور جیل سے کئی کتابیں لکھیں۔ سب سے پہلی تصنیف ’’زاد مجاہد‘‘ تھی جو آپ نے انتہائی سخت حالات میں لکھی اور بہت مشکل سے اسے جیل سے باہر تک پہنچا یا۔ یہ کتاب ایک مجاہد کے مکمل طرز حیات اور ایک جہادی جماعت کے لئے مکمل دستورالعمل کی حیثیت رکھتی ہے۔ پھرآپ نے تعلیم الجہاد کے چار حصے تصنیف کئے جن میں عام فہم انداز میں سوال و جواب کے طرز پر قرآن و حدیث سے ایک مؤمن کو جہاد سمجھایا گیا ہے۔ جیل میں ہی آپ نے علامہ ابن النحاس الدمیاطی شہید(رح) کی کتاب ’’مشارع الاشواق الیٰ مصارع العشاق‘‘ کو بنیاد بنا کر ’’فضائل جہاد‘‘ نامی ضخیم کتاب تصنیف کی، آٹھ سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک دائرۃ المعارف کی حیثیت رکھتی ہے اوراسے اس موضوع پر سب سے ضخیم کتاب کا درجہ حاصل ہے۔ ’’یہود کی چالیس بیماریاں‘‘ نامی کتاب بھی جیل سے لکھی گئی۔ اس کتاب میں قرآن مجید میں ذکر فرمودہ یہود کی چالیس قلبی بیماریوں کو موضوع بنایا گیا ہے اور ان امراض کی نشاندہی کرکے مسلمانوں کو ان سے بچنے کی پر زور ترغیب دی گئی ہے اور ان بیماریوں کے دنیوی، اخروی اثرات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ یہ کتاب شیخ کی تصانیف میں ایک خاص اہمیت کی حامل ہے۔ ان کے علاوہ ’’دروس جہاد‘‘ ’’ آزادی مکمل یا ادھوری‘‘ اور کئی دیگر کتب آپ نے جیل میں لکھیں۔ یوں اسارت کی زندگی بھی آپ کی جہادی خدمات کو روک نہ سکی بلکہ زندانوں سے بھی آپ کی حیّ علی الجہاد کی صدا اہل ایمان تک پہنچتی رہی۔

رہائی۔ ایک فتح مبین

حضرت شیخ چونکہ صرف مجاہدین کے ہر دلعزیز رہنماء ہی نہ تھے بلکہ وہ مجاہدین میں ایک مرشد اور مربی کا مقام رکھتے تھے اس لئے مجاہدین کے قلوب ان کی محبت سے معمور تھے۔ مجاہدین نے ان کی رہائی کے لئے کئی بار کوشش کی اور تین منظم کاروائیاں عمل میں لائی گئیں لیکن ان کے نتیجے میں شیخ کو رہا نہ کرایا جاسکا، اسی طرح شیخ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر جیل سے ایک سرنگ کھودی جو اگرچہ مکمل ہوگئی مگر آخری مراحل پر اس کا معاملہ افشاء ہوگیا اور اس وقت جیل کے حکام نے مجاہدین کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور شیخ کے قریبی ساتھی اور دوست کمانڈر سجاد افغانی شہیدہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے شیخ کی رہائی کے لئے ایک خاص وقت اور شایانِ شان انداز مقدر فرما رکھا تھا۔ گزشتہ صدی کے اختتامی ہفتے میں پانچ مجاہدین نے ہندوستان کا ایک طیارہ اغواء کر لیا اور اسے قندھار لے گئے، وہاں اس وقت امارت اسلامیہ قائم تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو رمضان المبارک کے آخری عشرے میں فتح مبین عطا فرمائی اور ۲۲ رمضان المبارک کے دن شیخ ہندوستان سے رہا ہو کر قندھاراترے۔اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو رسوا فرمایا۔اور عسکری ماہرین کے مطابق یہ طیارہ ہائی جیکنگ کی واحد کامیاب کاروائی تھی جس کے بدلے میں مجاہدین کی رہائی عمل میں آئی اور کاروائی کرنے والے مجاہدین بھی محفوظ رہے ۔اللہ تعالیٰ نے اس شان سے شیخ کو رہائی عطا فرمائی کہ آٹھ دن تک دنیا بھر کے میڈیا پر ان کا نام سب سے پہلی خبر کے طور پر گونجتا رہا۔

جیش محمد کا قیام اور بیعت علی الجہاد

شیخ نے اپنی رہائی کے بعد گھر جانے اور والدین کریمین کی زیارت کرنے سے پہلے ہی اپنا کام شروع کر دیا اور کراچی سے دعوت جہاد کا آغاز کر دیا۔ہمارے بلاد کے اکابر علماء نے آپکی آمد کا خیر مقدم کیا اور کراچی میں یوم جمعہ کے ایک بڑے اجتماع میں اساطین علم نے بیعت علی الجہاد کی سنت کے احیاء کے ساتھ جماعت جیش محمد کے قیام کا اعلان کر کے شیخ کو اسکا امیر منتخب کر لیا۔جس شخصیت نے سب سے پہلے شیخ کے ہاتھ پر بیعت کی وہ ہمارے بلاد کے سلطان العلم والقلم شیخ الحدیث حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہید(رح) تھے جو شیخ کے استاد بھی تھے۔ان کے بعد دیگر کئی اکابر علماء نے آپ کے ہاتھ پر بیعت علی الجہاد کی اور اس مبارک عمل کے ساتھ اس جماعت کا قیام عمل میں آیا جسکی تاریخ کفر کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کرنے والی تاریخی عسکری کاروائیوں ،دنیا بھر میں پھیلی دعوتِ جہاد ،خدمت خلق ،فروغ علم دین ،تزکیہ باطن، تعمیر مساجد اور سینکڑوں شہداء کرام کے گھرانوں کی کفالت تک پھیلی ہوئی ہے۔

آیات جہاد کی تفسیر

شیخ نے ہندستان کی جیلوں میں اسارت کے دوران اللہ تعالیٰ کی توفیق سے قرآن مجید کی آیات جہاد کو جمع کرنا شروع کیا اور چار سو چوراسی ﴿۴۸۴﴾آیات جمع کر کے ان کا خلاصہ تعلیم الجہاد کے چوتھے حصے کی شکل میں مرتب کر کے بھیجاجو شائع اور مقبول عام ہوا۔رہائی کے بعد شیخ نے اس سلسلے کو آگے بڑھایا اور پہلے دو بار سورۃ انفال کی اور پھر دوبار پورے قرآن مجید کی آیاتِ جہاد کی تفسیر کا درس دیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔شیخ کی خواہش تھی کہ ان آیات کو جمع کر کے ان کی ایک جامع تفسیر لکھی جائے تاکہ دعوتِ جہاد کے کام کو ایک نئی جہت عطا ہو اور اسکی دلیل میں قوت آئے۔مگر شیخ کی مصروفیات اس کار عظیم کے آڑے آتی رہیں۔شیخ نے کئی اہل علم کو اس طرف متوجہ کیا کہ وہ اس کام کو کریں مگر سب کا جواب تھا کہ یہ کام آپ ہی کی شان کے لائق ہے۔بالآخرشیخ نے اپنی مہاجرت اور مسافرت کے ایام میں اس کام کا بیڑہ اٹھایا اور اپنے والدین کریمین اور اکابر کی دعاؤں سے اس کا آغاز کیا اور دیگر مشغولیات کے ہجوم کے باوجود محض چارسال کے عرصے میں علوم قرآنی سے لبریز یہ مدلل،مبرھن تحفہ امت مسلمہ کو پیش کیا۔الحمدللہ یہ کتاب منظر عام پر آئی ،اکابر علماء نے اسکی تصویب کی ،مجامع عظیمہ میں اسے خراج تحسین پیش کیا،مسلمانوں میں اسے تلقی بالقبول نصیب ہوئی اور یکے بعد دیگرے کئی ایڈیشن اسکے شائع ہوئے ،انگریزی ترجمہ بھی تکمیل کے مراحل میں ہے ۔پشتو ترجمہ شائع ہو کر ہمارے بلاد اور افغانستان میں بکثرت پڑھا جا رہا ہے۔انٹرنیٹ کے ذریعے اس کتاب کو پڑھنے اور ڈاؤن لوڈ کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جن میں اکثریت ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور یورپ کے مسلمانوں کی ہے۔اور اب اس امید اور دعا کے ساتھ اس کتاب کا عربی ایڈیشن عالم عرب کو پیش کیا جا رہا ہے کہ ان شاء اللہ یہ کتاب اور اس کا پیغام عالم عرب میں دعت جہاد کے فروغ کا ذریعہ بنے گا اور اہل عرب کو بھی اسی طرح اسلام کا یہ محکم فریضہ قرآن کی زبانی سمجھانے کا فریضہ ادا کرے گی جس طرح اس نے ہند و پاک میں لوگوں کے نظریات میں انقلابِ عظیم برپا کردیا۔

یہ چند متفرق کلمات جو کتاب اور صاحب کتاب کی شان کے ہرگز لائق نہیں اس مقصد کے لیے تحریر کیے گئے تاکہ تعارف کا کام دیں ۔اللہ تعالیٰ نے اس بضاعۃ مزجاۃ کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائیں اور ہمیں اس کتاب اور شیخ کی ذات سے بھر پور نفع پہنچائیں۔

میں اس دعا کے ساتھ اپنے ان کلمات کو ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ شیخ کے علم،عمل،عمراور کام میں برکت عطا فرمائے۔ان کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور ان کا سایہ امت مسلمہ خصوصاً مجاہدین کے سروں پر تا دیر قائم رکھے اور ہمیں ان سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین

وانا العبد

طلحہ السیف

خادم التفسیر والحدیث

بجامعۃ الصابر﴿بہاولپور﴾